سوال:
اگر کسی شخص کو سودی بینک میں ملازمت کی پیشکش ہو تو کیا ایسی ملازمت اختیار کرنا جائز ہے؟
جواب:
اسلام میں سود (ربا) کو سختی کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں سود لینے اور دینے والوں کے لیے سخت وعید بیان کی گئی ہے، جبکہ احادیث مبارکہ میں سودی معاملات میں تعاون کرنے والوں پر بھی تنبیہ فرمائی گئی ہے۔
اگر کسی ملازمت کا بنیادی کام سودی لین دین کو لکھنا، اس کا حساب رکھنا، معاہدے تیار کرنا یا سودی نظام کو چلانے میں براہِ راست معاونت کرنا ہو تو ایسی ملازمت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
البتہ بعض ایسے شعبے جن کا سودی لین دین سے براہِ راست تعلق نہ ہو، ان کے متعلق حالات مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے ہر صورت کا الگ شرعی حکم ہو سکتا ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ حتی المقدور حلال روزگار اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے، کیونکہ حلال رزق میں ہی حقیقی برکت ہے۔